اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے جمعرات کی رات ایرانی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے روز ولادت باسعادت اور ایٹمی ٹیکنالوجی قومی دن کی مبارک باد پیش کی- علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم نے پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ مذاکرات میں رہبر انقلاب اسلامی کے فرمانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوشیاری، داشمندی اور احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے اور اس نے ملک کے مفاد میں ہی قدم اٹھایا ہے- علی اکبر صالحی نے کہا کہ روس نے بوشہر ایٹمی بجلی گھر بنانے میں ہم سے تعاون کیا جبکہ مغربی ملکوں نے اس ایٹمی بجلی گھر کے لئے ایندھن تیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں- انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ایران نے اپنے ماہرین کی مدد سے ایٹمی ایندھن بنانا شروع کیا اور آج تمام طرح کی مشکلات کے باوجود ایران نے ایٹمی ایندھن بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے- علی اکبرصالحی نے مزید کہا کہ مغربی ملکوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام میں قانون کی خلاف ورزی کا بہانہ بناتے ہوئے ایران پر دباؤ می اضافہ کر دیا لیکن ہم نے تمام تر دباؤ اور پابندیوں کے باوجود بیس ہزار سے زائد سنٹیری فیوج مشینیں تیار کر لی جن میں سے دس ہزار کام کر رہی ہیں-انہوں نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں جو مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے اس میں ایران نے مغرب کے دباؤ کے باوجود اپنی تمام ایٹمی سرگرمیاں اور یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے پر تاکید کی ہے- ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ لوزان مشترکہ بیان کے مطابق ایران اپنے کسی بھی ایٹمی مرکز کو بند نہیں کرے گا بلکہ اراک کا بھاری پانی کا پلانٹ دنیا کے ایک جدید ترین ری ایکٹر میں تبدیل ہو جائے گا- انہوں نے کہا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران آج واحد ترقی پذیر ملک ہے جو خدا کے فضل و کرم سے بھاری پانی بنانے میں کامیاب ہوا ہے اور یورینیم کی افزودگی بھی کر رہا ہے- انہوں نے کہا کہ ایٹمی تحقیقات کو جاری رکھ کر ہم مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کریں گے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲